ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زیباری اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زائد آل نہیان نے ابوظہبی میں باہمی ملاقات کے دوران خطے میں کشیدگی کو مسترد کرتے ہوۓ اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام سے متعلق فوجی آپشن سے اجتناب کرنے پر تاکید کی۔ عراق اور متحدہ عرب امارات کے وزراۓ خارجہ نے اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ آبناۓ ہرمز کے بند ہونے سے ان کے تیل کے برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور انہوں نے ایران کے پرامن ایٹمی معاملے سے متعلق ہر طرح کے فوجی اقدام کی مخالفت کی۔
عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے کہا کہ بغداد اختلافات کو فوجی طریقے سے حل کرنے کی حمایت نہیں کرتا ہے بلکہ وہ مذاکرات کا خواہاں ہے۔ عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے خصوصا آبناۓ ہرمز میں کشیدگي پیدا ہونے سے خلیج فارس کے ممالک اور عراق متاثر ہوں گے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زائد نے بھی کشیدگی کو تیل کی منڈی کے عدم استحکام کا سبب قرار دیا اور کہا کہ عالمی اقتصاد بحران کا شکار ہے اور اس کشیدگي کے ساتھ عالمی منڈیوں کے بحران میں شدت آۓ گي جو کسی بھی ملک کے لۓ فائدہ مند نہیں ہے۔
............
/169